محرم الحرام
محرم الحرام کا مہینہ چار حرمتوں والا مہینہ ( ذوالقعدہ ذوالحجۃ محرم اور رجب) محرم کو محرم اس کی عظمت اور حرمت کی وجہ سے کہا جاتا ہے اسلام سے پہلے زمانہ جاہلیت میں بھی اس مہینے کو انتہائی قابل احترام سمجھا جاتا تھا اور اہل مکہ اسی مہینے سے نںٔے سال کا آغاز کرتے تھے
اسلامی تاریخ کا آغاز
علامہ ابن حجر عسقلانی فرماتے ہیں کہ تاریخ مقرر کرنے کا سبب یہ ذکر کیا گیا ہے کہ حضرت ابو موسیٰ نے حضرت عمر کو خط لکھا ک آپ کی طرف سے جو خطوط آتے ہیں جن میں تاریخ درج نہیں ہوتی حضرت عمر نے لوگوں کو جمع کرکے مشورہ طلب کیا بعض نے کہا بعثت سے شمار کریں بعض نے کہا ہجرت سے شمار کریں حضرت عمر نے فرمایا ہجرت نے حق و باطل کے درمیان فرق کیا لہزا ہجرت سے ہی تاریخ کاحساب کریں
محرم الحرام میں پہلا حکم
اس مہینے میں مطلقاً کسی بھی دن کا روزہ رکھنا رمضان کے بعد سب سے افضل ہے نو دس یا دس گیارہ کا روزہ رکھنا اور بھی فضیلت کی چیز ہے
حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اللہ سے امید رکھتا ہوں کہ عاشورہ کے دن کا روزہ ایک سال پہلے گناہ مٹا دے گا
محرم الحرام میں دوسرا حکم
حضرت ابوھریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا جو شخص عاشورہ کے دن اپنے اہل وعیال پر کھانے پینے کے سلسلے میں فراخی اور وسعت کرے گا اللہ پورے سال اس کے رزق میں وسعت عطا فرمائے گے
محرم الحرام میں سوگ منانا اور شادی کا حکم
ایک اور چیز جن کا رواج عام طور پر بہت زیادہ ہوچکا ہے کہ یہ مہینہ غم کا مہینہ ہے اس لیے کہ اس مہینے میں اللہ کے رسول کے نواسہ حضرت حسین کی ظالمانہ طور پر شہید کر دیے گئے
سوچنا یہ ہے کہ شریعت کی طرف سے کیا رہنمائی ملتی ہے
علامہ ابن کثیر کا ایک قول ملاحظہ کرتے ہیں
ہر مسلمان کے لئے مناسب ہے کہ اس کو حضرت حسین کی شہادت کا واقعہ غمگین کر دیں
وہ مسلمانوں کے سردار اور اہل علم صحابہ میں سے تھے
لیکن شہادت پر شیعہ جس انداز سے رنج وغم کا اظہار کرتے ہیں وہ کسی صورت میں مناسب نہیں ہے
حضرت علی چالیس ہجری سترہ رمضان اپنے گھر سے تشریف لے جارہے تھے فجر کی نماز کے لئے شہید کر دیے گئے
شیعہ اس طرح ماتم نہیں مناتے ہیں
اس مہینے میں سوگ کرنا ہے اصل ہے
جب سوگ کرنا جاںٔز نہیں پھر شرعاً اس مہینے میں شادی کرنے کی کوںٔی ممانعت نہیں ہوگی
