اولاد کی اچھی تربیت


 اولاد اللہ کی طرف سے ایک بڑی نعمت ہے

بہت سے لوگ اس نعمت کو پانے کے لیے تڑپتے ہیں رب سے رو رو کر مانگتے ہیں خوش نصیب ہیں وہ لوگ جن کو اللہ نے اتنی بڑی نعمت سے نوازا ہے 

اس کے ساتھ اولاد کی تربیت کی بہت بڑی ذمہداریاں بھی ماں باپ پر ہے اس کی اچھی تربیت اچھی تعلیم دینا ضروری ہے

اگر اچھی تربیت اچھی تعلیم نہیں دی اور اولاد کا بگاڑ پیدا ہوا تو رب اس کے متعلق پوچھے گا

ہر انسان ذمہ دار ہے اور اس کے ماتحت کے بارے پوچھا جائے گا

اولاد کی تربیت کرنا والدین کی بنیادی ذمہ داری ہے، اگر اس ذمہ داری سے وہ غافل رہے تو اللہ کے نزدیک باز پرس ہوگی، رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: الصلاح من اللّٰہ والادب من الاباء(الادب المفرد للبخاری) توفیق اللہ دیتا ہے اور تربیت والدین کی ذمہ داری ہے۔

اگر اولاد میں نافرمانی اور بے دینی کے اثرات ہوں تو ان کے لیے دعا کرنی چاہیے اور ان کی حکمت کے ساتھ تربیت کرنی چاہیے۔ اگر ان کی دینی تربیت کی جائے گی تو وہ نہ صرف دنیا میں والدین کی آنکھوں کی ٹھنڈک بنیں گے بلکہ مرنے کے بعد بھی وہ ان کے لیے اجروثواب کا ذریعہ بنیں گے۔ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ انسان جب مرجاتا ہے تو اس کے تمام اعمال منقطع ہوجاتے ہیں سوائے تین عمل کے۔ ایک صدقہ جاریہ، دوسرے ایسا علم جس سے دوسرے لوگ فائدہ اٹھائیں اور تیسرے صالح اولاد جو اس کے لیے دعا کرے۔ (مسلم، کتاب الوصیۃ)

ایسے والدین جو اپنی اولاد کی اچھی تعلیم و تربیت کرتے ہیں اور اس کے باوجود اولاد کے عمل میں کچھ کمی رہ جائے گی تو اللہ تعالیٰ قیامت میں ان والدین کے ساتھ ہی اولاد کو رکھیں گے اور اولاد کے عمل کی کمی کو اپنے فضل سے پورا کردیں گے۔ ارشاد ہے:

’’جو لوگ ایمان لائے ہیں اور ان کی اولاد بھی کسی درجۂ ایمان میں ان کے نقش قدم پر چلی ہے ان کے اس اولاد کو بھی ہم (جنت میں) ان کے ساتھ ملادیں گے اور ان کے عمل میں کوئی گھاٹا ان کو نہ دیں گے، ہر شخص اپنے کسب کے عوض رہن ہے۔‘‘ (الطّور:۲۱)

اللہ تعالیٰ نے اولاد کو اپنے والدین کے ایمان اور عمل صالح کا اتباع کرنے کا حکم دیا ہے اور اس کے ساتھ والدین کے اکرام اور ان کی خدمت کو بھی شامل کیا ہے، اور فرمایا ہے کہ اگر ان کی خدمت کرنے میں صالح اولاد سے بشری کمزوری کے سبب کچھ کمی رہ گئی اور وہ اللہ سے رجوع کریں گے تو ایسی اولاد کے لیے اللہ کی مغفرت کا دروازہ کھلا ہوا ہے۔ والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنے اور ان کو تکلیف نہ پہونچانے کی تاکید کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

’’تمہارا رب خوب جانتا ہے جو کچھ تمہارے جی میں ہے اگر تم نیک ہوگے تو وہ رجوع کرنے والوں کو مغفرت عطا کرتا ہے۔‘‘ (بنی اسرائیل:۲۵)

اللہ تعالیٰ نے اولاد کی ہمہ جہت تربیت کا حکم دیا ہے، اس میں جسمانی نشوونما، دینی و اخلاقی تربیت، علمی اور روحانی تربیت سب کچھ شامل ہے، رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’اپنی اولاد کی عزت کرو اور ان کی عمدہ تربیت کرو۔‘‘  (ابن ماجہ، کتاب الادب، باب برالوالد والاحسان الی البنات)

اولاد کی تربیت میں صبر، اعتدال اور حکمت کا خیال رکھنا لازم ہے۔ اولاد کے ساتھ نہ تو اتنی سختی کی جائے کہ ان کی امنگیں اور صلاحیتیں کمزور ہوجائیں، حوصلے پست ہوجائیں اور نہ اتنی نرمی اور تساہلی برتی جائے کہ وہ بے راہ روی اور سرکشی میں مبتلا ہوجائیں۔

بہت سے لوگ بچوں کی جسمانی اور مادی ضرورتوں کا خیال رکھتے ہیں، مگر ان کی دینی اور روحانی تربیت سے غفلت برتتے ہیں، اسی طرح بعض لوگ بچوں کو دین دار بنانا چاہتے ہیں مگر ان کی جسمانی اور ذہنی نشوونما سے صرف نظر کرلیتے ہیں۔ یہ دونوں چیزیں اولاد کی تربیت کی ذمہ داری کو پوری نہیں کرتیں۔ والدین اپنی ذمہ داریوں سے اسی وقت عہدہ برآ ہوسکتے ہیں جب کہ وہ اولاد کی ہمہ جہت نشوونما کی فکر کریں اور مکمل شخصیت کی تشکیل پر مبنی تعلیم و تربیت سے ان کو آراستہ کریں

اس لیے اولاد کی اچھی تربیت اور اچھی تعلیم دیں تاکہ دنیا اور دونوں جہاں میں یہ کامیاب ہو جائے آمین





Post a Comment

Previous Post Next Post