محرم الحرام میں غم منانا

محرم الحرام کہنے کی وجہ
ان مہینوں کو حرمت والا اس لیے کہتے ہیں کہ ان میں ہر ایسے کام سے جو فتنہ وفساد، قتل وغارت اور امن وسکون کی خرابی کا باعث ہو، بالخصوص منع فرمایا گیا ہے۔ ان چار مہینوں کی حرمت وعظمت پہلی شریعتوں میں بھی مسلم رہی ہے، حتی کہ زمانہ جاہلیت میں بھی ان چار مہینوں کا احترام کیا جاتا تھا

اسلامی مہینہ اور تاریخ یاد رکھیں

اسلامی تقویم ہجری کا پہلا مہینہ ہے، کتنے ہی پڑھے لکھے ، دیندار لوگ ایسے ہیں جنہیں اسلامی تقویم کا علم ہی نہیں، ان سے اسلامی مہینوں کے نام معلوم کر لیں وہ آپ کو نہیں سنا سکیں گے، ان سے روزانہ کی اسلامی تاریخ معلوم کی جائے تو وہ نہیں بتلا پائیں گے۔ جب کہ اس کے برخلاف شمسی تقویم، اس کے مہینوں کے نام اور تاریخ ہرکسی کومعلوم ہوتی ہے۔ کسی بھی دن کسی سے بھی پوچھ لیں کہ آج کیا تاریخ ہے؟ تو فوراً بتا دیں گے۔ جب شمسی سال کے پہلے مہینے جنوری کی ابتدا ہوتی ہے تو’’نیوائیرنائٹ ‘‘پر وہ خوشیاں بھی مناتے ہیں، خوب ہلّہ غلّہ کرتے ہیں، گویا اس طریقے سے وہ نئے سال کاآغاز کرتے ہیں۔ اس مقام پر ہم نے غور وفکر یہ کرنا ہے کہ ’’نیو ائیر‘‘کی اس طرز پر ابتدا ہم نے کہاں سے لی؟! ہمارے لیے تو ’’نیوائیر‘‘ کی ابتدا محرم الحرام کے بابرکت مہینہ سے شروع ہوتی ہے، اور چونکہ ہم مسلمان زندگی گزارنے کے طور طریقوں کے معاملے میں مستقل ایک کامل تہذیب کے مالک ہیں،اس لیے ہمیں اپنی زندگی کی راہ ورسم میں کسی کے سامنے ہاتھ پھیلا کر بھکاری پن اختیار کرنا مسلمان کی مسلمانیت کے خلاف ہے، ہمیں کسی کے در پر جھکنے کی ضرورت ہی کیا ہے؟ ہم تو خود ساری دنیاکوتہذیب وشائستگی کے آداب وطریقے سکھانے والے ہیں۔ نئے مہینے کے استقبال کا اسلامی طریقہ ’’نئے سال ‘‘کی ابتدا ہو یا ’’نئے مہینے ‘‘کی، شریعت میں جب بھی یہ (’’نئے سال ‘‘ یا ’’نئے مہینے ‘‘کا) لفظ بولا جائے گا اس سے مراد اسلامی مہینہ ہی ہوگا، نہ کہ شمسی مہینہ۔

محرم الحرام میں غم منانا

شہادت تو ایسی نعمت ہے جس کے حصول کی شدت سے تمنا کی جاتی تھی، یہ کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس پر افسوس اور غم منایا جائے، اگر اس عمل کو صحیح تسلیم کر لیا جائے توپھر ہمیں بتلایا جائے کہ پورے سال کا ایسا کون سا دن ہے جس میں کسی نہ کسی صحابیِ رسول کی شہادت نہ ہوئی ہو، کتب تاریخ اور سیر کو دیکھ لیا جائے، ہر دن میں کسی نہ کسی کی شہادت مل جائے گی، جس کا مقتضا یہ ہے کہ اس دن کو اظہارِ غم اور افسوس بنایا جائے، نیز! اس بات کو بھی دیکھا جائے کہ جناب رسول اللہ a کی حیاتِ طیبہ میں بھی تو کئی عظیم اور نبی a کی محبوب شخصیات کو شہادت ملی، لیکن کیا ہمارے پیارے نبی a نے بھی ان کی شہادت کے دن کو اس طرح منایا؟؟!! نہیں !بالکل نہیں! تو پھر کیا ہم اپنے نبی a سے زیادہ غم محسوس کرنے والے ہیں؟؟!! خدارا! ہم اپنے اعمال کا جائزہ لیں اور اس قسم کی رسومات اورفضول اعمال سے بچنے کی مکمل کوشش کریں۔ محرم الحرام میں شادی کرنے کا حکم اوپر ذکر کی گئی تفصیل کے مطابق اس ماہِ مبارک میں سوگ کرنا بالکلیہ بے اصل اور دین کے نام پر دین میں زیادتی ہے، جس کا ترک لازم ہے، لہٰذا جب سوگ جائز نہیں ہے تو پھر شرعاً اس مہینے میں شادی کرنے کی کوئی ممانعت نہیں ہے، بلکہ عجیب بات تو یہ ہے کہ امیر المؤمنین حضرت علی کرم اللہ وجہہٗ کی حضرت فاطمہ الزہراء t سے شادی اسی ماہِ مبارک میں ہوئی۔
اللہ تعالیٰ ہم تمام کو صحیح سمجھ عطا فرمائے آمین



Post a Comment

Previous Post Next Post