اگر کوئی شخص ہندوستان کے کسی خطے سے پیدل حج کرنا چاہتا ہے جب کے اس کے پاس حج کے سفر کے لئے تمام وسائل موجود ہے یعنی ہوائی جہاز سے سفر کرسکتا ہے
پھر بھی ایک صاحب کی یہ خواہش ہے میں پیدل حج پر جاؤ
نام و نمود مقصود نہیں ہے تو کر سکتے ہیں لیکن یہ سنت نہیں ہے آپ ﷺ نے نہ پیدل حج کیا اور نہ پیدل حج کرنے کی ترغیب دی ہے
حضور ﷺ نے ایسے دشوار کام سے منع فرمایا ہے
حج اسلام کے پانچ ارکان میں سے ایک ہے جن پر اسلام کی بنیاد ہے۔ حج کی فرضیت قرآن کریم، حدیث شریف اور اجماع امت سے ایسے ہی ثابت ہے، جیسا کہ نماز، روزہ اور زکاة کی فرضیت ثابت ہے؛ اس لیے جو شخص حج کی فرضیت کا انکار کرے، وہ کافر ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پانچوں ارکان کو ایک حدیث شریف میں بیان فرمایا ہے۔ ”بُنِیَ الإِسْلاَمُ عَلَی خَمْسٍ: شَھَادَةِ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلَّا اللہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللہِ، وَإِقَامِ الصَّلاَةِ، وَإِیتَاء ِ الزَّکَاةِ، وَالحَجِّ، وَصَوْمِ رَمَضَانَ“․(بخاری شریف، حدیث نمبر:۸)
ابو زہیر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”النَّفَقَةُ فِی الْحَجِّ کَالنَّفَقَةِ فِی سَبِیلِ اللہِ بِسَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ“․ (مسند احمد، حدیث:۲۳۰۰۰، شعب الایمان، حدیث:۳۸۲۹) ترجمہ: ”حج میں خرچ کرنا اللہ کے راستے میں خرچ کرنے کی طرح، (جس کا ثواب)سات سو گنا تک ہے“۔
حج اور عمرہ کرنے والے اللہ تعالی کے مہمان ہیں، اللہ تعالی ان کی مانگ ان کو عطا فرماتے ہیں، ان کی دعاؤں کو قبول کرتے ہیں، ان کی شفارش قبول کرتے ہیں اور ان کے لیے ہزار ہزار گنا تک ثواب بڑھایا جاتا ہے“۔
حج اور عمرہ پر دوام برتو؛ کیوں کہ یہ دونوں فقر اور گناہوں کو ختم کرتے ہیں ، جیسا کہ دھونکنی لوہا سے زنگ کو دور کردیتی ہے
