شب برات میں اللہ کے رسول ﷺ قبرستان کیوں گںٔے

 


 شب برات میں اللہ کے رسول ﷺ قبرستان کیوں گںٔے 


شب برات یعنی چھٹکارے کی رات جہنم سے آزادی کی رات  

اس رات کی بہت بری فضیلت ہے لوگ اس کی فضیلت سے غافل ہے 

اس رات اللہ کے سامنے بندوں کے اعمال پیش کںٔے جاتے ہیں

اس رات میں آںٔندہ سال تک مرنے والے کے نام دذج کر دںٔے جاتے ہیں

کہ کب کس کی موت ہوگی ‌کتنا رزق ملے گی ساری چیزیں لکھ دی جاتی ہے

اس رات میں اللہ کی طرف سے ایک پکارنے والا پکارتا ہے

ہے کوئی مغفرت چاہنے والا ہے کوئی بخشش چاہنے والا

ہے کوئی جنت طلب کرنے والا

میں اسے جنت عطاء کروں

حضرت عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں


ایک رات میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ پاکر آپ کی تلاش میں نکل گںٔی 

میں نے دیکھا آپ جنت البقیع میں ہیں

میں تیزی سے واپس آںٔی

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جب آںٔے تو فرمایا عائشہ تم سمجھتی ہو کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تم پر ظلم کرینگے ہر گز نہیں

اے عائشہ اس رات اللہ آسمان دنیا پر نزول فرماتے ہیں اور بنو کلب کی بکریوں کے جتنے بال ہیں اللہ اس رات

اس سے زیادہ لوگوں کی مغفرت فرماتے ہیں

اس رات کی بہت بڑی فضیلت ہے اس لیے ہم تمام اس رات میں اللہ

کی عبادت کرے اور تمام مرحومین کے لئے دعائے مغفرت کرے

اللہ اس رات میں ہم تمام کی مغفرت فرمائے آمین 

اس رات میں بہت سے لوگ ایسے ہیں جن کی مغفرت نہیں ہوتی ان کا بیان انشاء اللہ اگلی پوسٹ میں آںٔگا

Post a Comment

Previous Post Next Post