اس دنیا میں انسان رب کی عبادت وبندگی کے لئے آیا ہے اللہ نے دنیا کے اندر کچھ کو بہت ساری نعمتوں سے نوازا ہے لیکن اس دنیا میں انسان ان نعمتوں کو پاکر اپنی حقیقتوں کو بھول جاتا ہے کے میری حقیقت کیا ہے پھر تکبر کا شکار ہو جاتا ہے اور لوگوں سے نفرت کرنے لگتا ہے لیکن دنیا میں تین جگہ ایسی ہے جہاں اصل زندگی کا پتہ چلتا زندگی کی حقیقت معلوم ہوتی ہے کی اصل زندگی کی حقیقت کیا ہے آپ بھی ان جگہوں پر جایا کریں
•
آپ مہینے میں ایک بار ان جگہوں کا وزٹ کر لیا کریں۔ آپ کو اپنے ظاہر اور باطن دونوں کی اوقات سمجھ آ جائے گی۔ میں اکثر ان جگہوں پر جاتا ہوں اور کسی کونے میں چپ چاپ بیٹھ کر زندگی کی اصل حیثیت دیکھتا ہوں اور پھر پوری طرح چارج ہو کر واپس آ جاتا ہوں۔
یہ تین جگہیں قبرستان، اسپتال اور جیل ہیں۔ آپ کبھی اپنا سب سے قیمتی سوٹ پہنیں، شیو کریں، جسم پر خوشبو لگائیں، جوتے پالش سے چمکائیں، اپنی سب سے مہنگی گاڑی نکالیں اور شہر کے سب سے بڑے قبرستان میں چلے جائیں۔ آپ ایک کونے سے دوسرے کونے تک قبروں کے کتبے پڑھنا شروع کریں، آپ تمام قبروں کا اسٹیٹس دیکھیں، آپ کو محسوس ہو گا ان قبروں میں سوئے ہوئے زیادہ تر لوگ اسٹیٹس کے لحاظ سے آپ سے کہیں آگے تھے۔ یہ لوگ آپ سے زیادہ مہنگے سوٹ پہنتے تھے، دن میں دو، دو بار شیو کرتے تھے، ان کے پاس زیادہ مہنگی پروفیومز تھیں، یہ اطالوی جوتے خریدتے تھے اور ان کے پاس آپ سے زیادہ مہنگی اور لگژری گاڑیاں تھیں ۔۔۔ لیکن آج یہ مٹی میں مل کر مٹی ہو چکے ہیں اور قبر کا کتبہ ان کی واحد شناخت رہ گیا ہے۔
آپ کو محسوس ہو گا یہ لوگ رتبے، اختیار اور تکبر میں بھی آپ سے بہت آگے تھے، مکھیاں بھی ان کی ناک پر بیٹھنے سے پہلے سو سو بار سوچتی تھیں، ہوائیں بھی ان کے قریب پہنچ کر محتاط ہو جاتی تھیں اور یہ کبھی اس زمین، اس ملک اور اس سسٹم کے لیے ناگزیر سمجھے جاتے تھے۔ لیکن پھر کیا ہوا، ایک سانس ان کے پھیپھڑوں سے باہر نکلی اور واپس جانے کا راستہ بھول گئی اور اس کے بعد یہ لوگ دوسروں کے کندھوں پر سفر کرتے ہوئے یہاں پہنچے اور زندگی انھیں فراموش کر کے واپس لوٹ گئی اور اب ان کا مرتبہ، ان کے اختیارات، ان کا تکبر اور ان کی ناگزیریت دو فٹ کے کتبے میں سمٹ کر رہ گئی۔ آپ قبرستان کی کسی شکستہ قبر کے سرہانے بیٹھ جائیں، اپنے ارد گرد پھیلی قبروں پر نظر ڈالیں اور اپنے آپ سے یہ سوال پوچھیں میرے پاس کتنا وقت باقی ہے؟ آپ کو اس سوال کے جواب میں تاریکی، سناٹا اور بے بسی کے سوا کچھ نہیں ملے گا۔
آپ اسی طرح کبھی کبھی اسپتالوں کا چکر بھی لگا لیا کریں۔ آپ کو وہاں اپنے جیسے سیکڑوں ہزاروں لوگ ملیں گے۔ یہ لوگ بھی چند دن، چند گھنٹے پہلے تک آپ کی طرح دوڑتے، بھاگتے، لپکتے اور شور مچاتے انسان تھے۔ یہ بھی آپ کی طرح سوچتے تھے کہ یہ زمین پر ایڑی رگڑیں گے تو تیل کے چشمے پھوٹ پڑیں گے، ان کا بھی خیال تھا یہ پاؤں مار کر زمین دہلا دیں گے اور ان کو بھی یہ گمان تھا کہ دنیا کا کوئی وائرس، کوئی جراثیم اور کوئی دھات انھیں نقصان نہیں پہنچا سکتی ۔۔۔ لیکن پھر ایک دن زندگی ان کے لیے عذاب بن گئی، ان کے پاؤں، ان کے ہاتھ، ان کی آنکھیں، ان کے کان، ان کا جگر، ان کا دل، ان کا دماغ اور ان کے گردے ان کے ساتھ بے وفائی کر گئے اور یہ اپنے ٹھنڈے گرم محلوں سے نکل کر اسپتال کے بدبودار کوریڈورز کے مسافر بن گئے۔
آپ اسپتالوں کی پرائیویٹ وارڈز اور مہنگے پرائیوٹ اسپتالوں کا چکر ضرور لگایا کریں۔ آپ کو وہاں وہ لوگ ملیں گے جو مہنگے سے مہنگا ڈاکٹر اور قیمتی سے قیمتی ترین دوا خرید سکتے ہیں، لیکن اس کے باوجود یہ بے بسی کے عالم میں اسپتالوں میں پڑے ہیں، کیوں؟ کیوں کہ انسان ڈاکٹر اور دوا تو خرید سکتا ہے لیکن شفا نہیں اور یہ لوگ قدرت کے اس قانون کے قیدی بن کر اسپتالوں میں پڑے ہیں۔ آپ مریضوں کو دیکھیں، پھر اپنے آپ کو دیکھیں، اللّٰہ کا شکر ادا کریں اور صحت کی اس مہلت کو مثبت طریقے سے استعمال کریں۔
آپ جیلوں کا چکر بھی لگایا کریں۔ آپ کو وہاں ایسے سیکڑوں ہزاروں لوگ ملیں گے جو کبھی آپ کی طرح آزاد پھرتے تھے، یہ رات کے تین بجے کافی پینے نکل جاتے تھے، یہ سردیوں کی یخ ٹھنڈی راتیں اپنے نرم اور گرم بستر پر گزارتے تھے ۔۔۔ لیکن یہ کسی دن اپنے کسی حیوانی جذبے کے بہکاوے میں آ گئے، یہ کسی کمزور لمحے میں بہک گئے اور طیش میں، عیش میں یا پھر خوف میں ان سے کوئی ایسی غلطی سرزد ہو گئی جس کی پاداش میں یہ لوگ سلاخوں کے پیچھے پہنچ گئے اور یہ اب جیل کے معمول کے مطابق زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔