ہندوستان کی آزادی میں مسلمانوں کی بے مثال قربانی




ہندوستان کی آزادی میں مسلمانوں کی بے مثال قربانی


آزادی میں ہمارے اسلاف نے کتنی قربانیاں دی ہیں اس کا جاننا ضروری ہے ورنہ آج تاریخ کے اوراق سے ہمارے اسلاف کا نام مٹایا جارہاہے ہے ملک کے بے شمار باشندوں نے آزادی کے لئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا تب جاکے ہمارا ملک آزاد ہوا ہندوستان کو طویل جد وجہد کے بعد آزادی کی نعمت حاصل ہوئی جس کے لئے ہمارے اسلاف نے زبردست قربانیوں کا نزرانہ پیش کیا غیر ملکی حکمرانوں نے اپنے اقتدار کو باقی رکھنے کے لئے طرح طرح کی چالیں چلی ہندوستان کے معصوم باشندوں پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑے مگر ان بہادر مجاہدوں ںے ان کا مقابلہ کیا اور آزادی کرکے ہی سانس لی ہندوستان کی آزادی دو بھائیوں کی لڑائی نہیں تھی جنہیں چند آدمیوں نے چھڑا دیا بلکہ بے شمار ہندوستان کے باشندوں نے اپنے جانکا نزرانہ پیش کیا ایک وقت ایسا تھا کہ ہمارا ملک سونے کی چڑیا سے معروف ہوگیا تھا جب انگریزوں کو اس کی خبر ہوئی تو سونے کی آشیانہ کو اجاڑنے کیلیے 1601ء میں اپنے ناپاک قدم رکھا تاجر کی شکل میں اور 1612ء میں بادشاہ سلامت جہانگیر سے اجازت لیکر صوبہ گجرات کے شہر سورت میں تیس ہزار پاؤنڈ سے ایسٹ انڈیا کمپنی کی بنیاد رکھی جس کے ذریعے سے اپنے نجس ارادوں کو شرمندہ تعبیر کرنا مقصود تھا اس کمپنی کی آڑ میں انہوں نے اپنی اقتدار تک رسائی کرلی اور پناہ دی ہوئی سانپ کی طرح ڈنک مارنا شروع کردیا اس بنا پر غیرت مند لوگ مخالفت پر اتر آۓ اور واپس اس ملک سے بھیجنے کے لئے ہر ممکن کوشش کرنے لگے جس کے نتیجے میں سب سے پہلے میدان کارزار میں سپہ سالار بن کر نواب سراج الدولہ مع لشکر سامنے آئے 1757ء میں تاریخ ساز جنگ ہوئی لیکن ایک آستین کے سانپ کی وجہ سے شکست کا سامنا کرنا پڑا جس کا نام میر جعفر تھا اور بنگال اور بہار میں ان کی حکومت قائم ہوئی انگریز کے چنگل سے اس دھرتی کو آزاد کرنے کے لئے میسور کا شیر ٹیپوسلطان بر سرِ پیکار ہوتی ہے اور 1791ء سے1799ء تک وہ کارہائے نمایاں انجام دیتے ہیں جس کو پڑھ کر ایک غیرت مند بہت کچھ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے یہ مرد مجاہد آزادی کے لیے ہر ممکن کوشش کرتا ہے لیکن اپنو کی غداری کی وجہ سے ناکامی ملی یہ وہ انقلابی شخص تھا جس کا ایک جملہ آج ہر عام وخاص کی زبان ہے شیر کی ایک دن کی زندگی گیڈر کی سوسالہ زندگی سے بہتر ہے بالاخر میسور کی دھرتی پر جنگ لڑتے لڑتے شہید ہو جاتے ہیں شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ان ہی انقلابی دور میں زندگی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہیں یہ حالت دیکھ کر مستقبل کی تاریکیاں ان کے سامنے تھی چنانچہ ان تاریکیوں کو ٹھکانے لگانے کے لئے تحریر و تقریر سے وہ کارہائے نمایاں انجام دیے جس کی نظیر نہیں ملتی ان کے بعد ان کے فرزند اپنے والد کے مشن کو آگے بڑھانے کے لئے ہر ممکن کوشش کی جب حالات بگڑتے ہی گیٔے تو شاہ عبدالعزیز نے ہندوستان کو دارالحرب ہونے کا فتویٰ دیا ہر ہندوستانی کے لئے اپنا حق لینے کا راستہ ہموار کیا شاہ عبدالعزیز اپنے مشن کو آگے بڑھانے کے لئے ایک جماعت کی تشکیل دی پھر 1826ء میں میدان جہاد میں قدم رکھا اور دشمن سے لڑتے لڑتے 1831ء بالاکوٹ کی پہاڑ ی پر ایک جم غفیر کے مع اسماعیل شہید جام شہادت نوش فرمایا 1857ء میں آزادی کی تحریک اور سر گرم ہوںٔی پورے ملک آزادی کی گونج سنائی دینے لگی اور دشمنوں سے مقابلہ ہوا دو لاکھ اہل اسلام نے جام شہادت نوش فرمایا جن میں 91500 علماء کرام تھے انگریز راںٔٹر لکھتا ہے دہلی کے چاندنی چوک سے پشاور تک درختوں پر علماء کی گردنیں اور جسم لٹکے ہوۓ ملتے تھے انگریز کہتا ہے میں دہلی کے ایک خیمے میں بیٹھا تھا گوشت چلنے کی بو آںیٔ میں پیچھے جاکر دیکھا آگ کے انگاروں پر علماء کو جلایا جاتا ہے پھر چالیس کو لایا جاتا ہے ننگا کیا جاتا ہے آگ کے انگاروں پر جلایا جاتا ہے ایک انگریز ان سے کہتا ہے اگر تم 1857 کے انقلاب میں شامل نہیں ہونگے تو میں تمہیں چھوڑ دونگا انگریز کہتا ہے علماء جل کر مر گئے کسی نے بھی انگریز کے سامنے گردن نہیں جھکاںیٔ 1857 کے ناکامی کے بعد ہمارے اکابرین نے یہ طے کیا اس کام کے لئے کوئی مدرسہ قائم کیا جائے 1866 میں دارلعلوم دیوبند کا قیام عمل میں آیا جن کے بانی مولانا قاسم نانوتوی مولانا رشید احمد اور حاجی عابد ہیں اس ادارے سے وہ جانتار پیدا ہوۓ جس نے ملک کو آزاد کرنے کے لئے مالٹا کے جیل آباد کیا پھانسی کے پھندے گلے لگایا جان کا نزرانہ پیش کیا 1912ء میں ادارے کے اول طالب علم شیخ الہند مفتی محمود الحسن تحریک ریشمی رومال چلاںیٔ اس ملک کی تقدیر بدلنے کی کوشش کی ان میں مولانا عبیداللہ سندھی بھی ہے لیکن بد قسمتی سے 1916میں مک میں شریف حسن کے ہاتھوں گرفتار ہوگے اور مالٹا کے جیل میں ناقابل بیان اذیت دی گئی 1884ء میں کانگریس کا قیام عمل میں آیا اور 1919ء میں جمیعت علمائے ہند قاںٔم ہوا اور اسی سال 1919ء میں ہندو مسلم اتحاد تحریک شروع ہوئی جس کی وجہ سے ملک آزادی کی راہ پر آنے لگی اور لاکھو نفوس کی قربان ہوجانے اور دو سو سال میدان جنگ وجدال میں گزارنے کے بعد ہندوستان 15اگست 1947میں آزاد ہوا نواب سراج الدولہ ٹیپوسلطان شاہ‌ ولی اللہ محدث دہلوی اور ان کے فرزند اور مولانا قاسم نانوتوی حافظ ضامن مولانا ابوالکلام آزاد اشفاق اللہ خان مہاتما گاندھی پنڈت جواہر لال نہرو شبھاش چندر بوس ڈاکٹر راجندر پرساد اور بابا امبیٹکر شامل تھے

Post a Comment

Previous Post Next Post